حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام زین العابدین انسٹیٹیوٹ آف تعلیماتِ قرآن و اہلبیت علیہم السّلام محرابپور سندھ کے مرکزی صدر ایاز علی خاکی نے شہید سید حسن نصر اللہؒ کی دوسری برسی کے موقع پر کہا ہے کہ شہداء جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں ہوتے، لیکن ان کی فکر، نظریات، جدوجہد اور قربانیوں کا پیغام آج بھی زندہ رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید سید حسن نصر اللہؒ کی دوسری برسی ہمیں صرف ایک عظیم شخصیت کی یاد منانے کا موقع نہیں دیتی بلکہ ہمیں یہ سوچنے کی دعوت بھی دیتی ہے کہ شہداء نے اپنی زندگی اور قربانیوں کے ذریعے ہمیں کیا پیغام دیا۔ انہوں نے اپنی زندگی حق، عزت، استقامت اور مظلوم انسانوں کی حمایت کے لیے وقف کی۔
ایاز علی خاکی نے کہا کہ شہید رہبر معظم سید علی خامنہ ای، شہید قائدِ ملت پاکستان علامہ عارف حسین الحسینیؒ، شہید سید حسن نصر اللہؒ اور ملتِ اسلامیہ کے دیگر عظیم شہداء آج جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی فکر، نظریات، جدوجہد اور قربانیوں کی روشنی آج بھی ہمارے درمیان موجود ہے۔ ان کے افکار آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہداء کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ مشکل حالات میں بھی حق، اصول اور انسانی وقار کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔ شہادت کسی فکر کا اختتام نہیں بلکہ ایک ایسے پیغام کی بقا ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا ہے۔
مرکزی صدر نے کہا کہ شہید سید حسن نصر اللہؒ کی شخصیت میں ہمیں استقامت، جرأت، قیادت اور مظلوموں کے لیے آواز بلند کرنے کا جذبہ نظر آتا ہے۔ ان کی زندگی نے نوجوان نسل کے سامنے یہ مثال پیش کی کہ قیادت صرف الفاظ کا نام نہیں بلکہ ذمہ داری، قربانی، کردار اور عمل کا تقاضا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید حسن نصر اللہؒ کی فکر کو سمجھنے کے لیے ہمیں کربلا کے پیغام کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ امام حسینؑ نے اپنی قربانی کے ذریعے انسانیت کو حق و باطل کے درمیان تمیز، عزتِ نفس اور ظلم کے خلاف استقامت کا درس دیا۔ اسی لیے شہداء کی یاد ہمیں کربلا کے اس پیغام سے بھی جوڑتی ہے کہ انسان اپنے اصولوں اور اقدار پر ثابت قدم رہے۔
ایاز علی خاکی نے مزید کہا کہ آج فلسطین سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں مظلوم انسانوں کے مسائل ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ انسانیت، عدل اور مظلوموں کی حمایت کے لیے شعور اور ذمہ داری کے ساتھ کردار ادا کرنا ضروری ہے۔ شہداء کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا سب سے اہم سبق یہی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں علم، شعور، اتحاد، اخلاق اور خدمت کو فروغ دیں۔
انہوں نے کہا کہ امام زین العابدین انسٹیٹیوٹ آف تعلیماتِ قرآن و اہلبیتؑ کا بنیادی مقصد بھی قرآن و اہلبیتؑ کی تعلیمات کو عام کرنا، نوجوان نسل کی فکری و اخلاقی تربیت کرنا اور انہیں علم و شعور کے ذریعے معاشرے کے لیے مفید کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔
مرکزی صدر ایاز علی خاکی نے کہا کہ شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ صرف ان کی یاد منانا نہیں بلکہ ان کے مثبت، اخلاقی اور انسانی پیغامات کو اپنی عملی زندگی میں اپنانا ہے۔ ہمیں نئی نسل کو یہ بتانا ہوگا کہ شہداء کی میراث صرف تاریخ کے صفحات میں نہیں بلکہ کردار، علم، اخلاق، خدمت اور حق پسندی میں زندہ رہتی ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ شہید سید حسن نصر اللہؒ اور تمام شہداء کی قربانیاں ہمیں حق، عدل، انسانی وقار اور مظلوموں کی حمایت کے راستے پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام شہداء کے درجات بلند فرمائے، ان کی قربانیوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نیک اور تعمیری افکار سے رہنمائی حاصل کرتے ہوئے معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔










آپ کا تبصرہ